ہندوستان

گجرات کےہندی بولنے والوں میں دہشت

گجراتیوں کے تشدد کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بہار،اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے باشندوں کی منتقلی کا سلسلہ جاری

احمد آباد: گجرات میں روزی روٹی کی تلاش میں گئے بہار، اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے مزدوروں کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔ کیونکہ شمالی ہند کے لوگوں پر گذشتہ کچھ دنوں سے جاری حملے کے نتیجے میں ان میں زبردست خوف ودہشت پائی جارہی ہے۔ گجرات پولس کے سربراہ کی طرف سے تشدد برپا کرنےو الوں کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ 28 ستمبر کو گجرات کے سانبر کانٹھا ضلع کے ہمت نگر میں 14 ماہ کی ایک بچی سے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے معاملے میں گجرات پولس نے بہار کے رہنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا۔ اسی کے بعد سے مقامی لوگوں نے بہار ، اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے لوگوں کو نشانہ بنانا اور انہیں گجرات بدر کرنے کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ خوف ودہشت کے مارے لوگ بڑے پیمانے پر گجرات چھوڑ کر اپنے وطن لوٹ رہے ہیں۔ احمد آباد کے چاند لوریا علاقے میں رہنے والے دویندر راٹھور نے بتایا کہ کل دیر رات کچھ مقامی لوگ ان کے گھر پہنچے اور انہیں گجرات چھوڑ دینے کیلئے کہا۔ دویندر مدھیہ پردیش کے بھنڈ ضلع کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پڑوسیوں کو بھی گجرا ت چھوڑ کر جانے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے اور لوگ بڑے پیمانے پر گجرات چھوڑ رہے ہیں۔ ڈی جی پی نے اس صورتحال کیلئے سوشل میڈیا کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شمالی ہند کے لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے الزام میں اب تک 180 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گجرات پولس کا سائبر سیل بھی سوشل میڈیا پر افواہ پھیلانے والوں کی پہچان میں جٹا ہوا ہے۔ احمد آباد، گاندھی نگر سمیت کئی شہروں میں پولس کے جوان لگاتار گشت کررہے ہیں اور کسی قسم کے تشدد کو روکنے کیلئے ہرممکن کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکت برداشت نہیں کی جائے گی اور جو لوگ بھی غیر گجراتیوں کو نشانہ بنائیںگے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close