کھیل

ہاکی کی آخری چیمپیئنز ٹرافی

37 واں چیمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ 23 جون سے ہالینڈ کے شہر بریڈا میں شروع ہونے والا ہے۔ اس ایونٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ آخری چیمپئنز ٹرافی ہے جس کے بعد اس ایونٹ کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

اس ٹورنامنٹ میں چھ ٹیمیں شریک ہیں جن میں عالمی چیمپئن آسٹریلیا، اولمپک چیمپئن ارجنٹینا اور میزبان ہالینڈ کے علاوہ بیلجیئم، انڈیا اور پاکستان شامل ہیں۔

بیلجیئم، انڈیا اور پاکستان کو انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی دعوت پر ٹورنامنٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

چیمپیئنز ٹرافی سے پاکستان کی گہری وابستگی رہی ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق صدر ائیر مارشل (ریٹائرڈ ) نور خان نے چیمپئنز ٹرافی کا خیال پیش کیا تھا اور انھوں نے ہی اس ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر ٹرافی تیار کرائی تھی۔

پہلی چیمپیئنز ٹرافی سنہ 1978 میں لاہور میں منعقد ہوئی تھی جس میں پانچ ٹیمیں شریک ہوئی تھیں۔ پاکستان نے اصلاح الدین کی قیادت میں یہ ٹورنامنٹ جیتا تھا۔

پاکستان سنہ 1978، 1980 اور 1994 میں تین مرتبہ چیمپئنز ٹرافی جیت چکا ہے۔

آخری بار پاکستان نے شہباز احمد کی قیادت میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اپنے دور کے بہترین فارورڈ کہلائے جانے والے شہباز احمد اس وقت پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری ہیں لیکن وہ چیمپیئنز ٹرافی ختم کیے جانے کے فیصلے پر خاصے مایوس ہیں۔

شہباز احمد کا کہنا ہے کہ ’ایف آئی ایچ نے اپنی نئی ہاکی لیگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن انہیں چیمپیئنز ٹرافی ختم کیے جانے کے بارے میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا کیونکہ یہ ٹورنامنٹ پاکستان نے شروع کیا تھا اور اس کی ٹرافی بھی ائرمارشل نورخان نے پیش کی تھی۔‘

ان کے خیال میں بہتر ہوتا کہ ایف آئی ایچ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی دوبارہ پاکستان کے حوالے کر دیتی۔

’پاکستان کو اس وقت ایک بین الاقوامی ہاکی ٹورنامنٹ کی ضرورت ہے اور اس سے اچھی بات اور کیا ہوتی کہ ہمیں چیمپیئنز ٹرافی یا کوئی بھی ایک انٹرنیشنل ٹورنامنٹ مل جائے۔ ہمارے بچے لاہور ورلڈ کپ فائنل اور چیمپیئنز ٹرافی جیسی ہاکی دیکھنے سے محروم ہوچکے ہیں، وہ دوبارہ اسی طرح کے میچز دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

شہباز احمد کو اچھی طرح یاد ہے کہ چیمپیئنز ٹرافی کے ذریعے ہی وہ انٹرنشینل ہاکی میں متعارف ہوئے تھے۔

’سنہ 1986 کی چیمپیئنز ٹرافی میں مجھے حسن سردار کا وہ گول اب بھی یاد ہے جو انھوں نے میرے پاس پر کیا تھا۔ یہ وہ ٹورنامنٹ ہوتا تھا جو ورلڈ کپ اور اولمپکس کے بعد سب سے سخت ترین ایونٹ سمجھا جاتا تھا جس کے لیے دنیا کی بہترین ٹیمیں خاص تیاری کیا کرتی تھیں۔ اس ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کا پرانا فارمیٹ تھا جسے تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close