ہندوستان

ہمیں اپنے پورے تعلیمی نظام کو دوبارہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے: نائب صدرجمہوریہ

نئی دہلی: نائب صدرجمہوریہ ہند ایم وینکیا نائیڈو نے دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے طلباء سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’’آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ اس عظیم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے، لیکن آج آپ ان نوجوان لوگوں کے لئے بھی سوچیں جنہیں اس کا مستحق ہونے کے باوجود ایسا موقع نہیں ملا۔ یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم تعلیم اور ان مواقع فوائد کو آخیر تک پہنچائیں‘‘۔ وہ آج یہاں دہلی یونیورسٹی کے 95 ویں سالانہ تقسیم اسناد کے جلسے سے خطاب کررہے تھے۔نائب صدرجمہوریہ نے یونیورسٹی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے ویژن اور مشن سے ملک کی تعمیر کے لئے طویل مدتی عہد اور انسانیت کی آفاقی اقدار کو محفوظ کرنے کے اپنے عزم محکم کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کا نصب العین ’’نشٹھا دھریتی ستیم‘‘ عزم ، استقلال اور سچائی اس کے اصولوں کی منصفانہ عکاسی کرتے ہیں۔ گریجویشن کرنے والے طلباء اور انعام پانے والوں ، خاص طور پر نوجوان خواتین کو مبارک باد دیتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے خواتین کی تعلیم پر یونیورسٹی کی توجہ کی ستائش کی۔مسٹرنائیڈو نے کہا کہ ہندوستان نے تعلیم کے شعبے ایک طویل اور مشکل ترین سفر کیا ہے جس میں عہد قدیم میں ایک پیڑ کی چھاؤں میں گرو-ششیہ کی پرمپرا کے تحت تعلیم حاصل کرنے سے آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک بننا شامل ہے۔نائب صدر جمہوریہ نے ہندوستان کی یونیورسٹیوں سے کہا کہ وہ نوجوان لوگوں کو مفید اور روشن خیال شہری بنانے کی ذمہ داری نبھائیں۔ ہر ایک کو یاد دلاتے ہوئے کہ ہندوستان کا مقصد سب کی شمولیت والی پائیدار ترقی ہے ۔ نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ اس مقصد تک پہنچنے کے لئے ملک کے نوجوانوں کو صنعت کاری ، ذہانت اور وسائل کے ساتھ راہ ہموار کرنی ہوگی۔نائب صدرجمہوریہ نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہ ہندوستان میں تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافے سے ملک میں دی جانے والی تعلیم کے معیار میں اتنی بہتری نہیں آئی ہے، انہوں نے کہا کہ پورے تعلیمی نظام کو دوبارہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ ’’سب کے لئے ایک ہی نظام ‘‘ کا طریقہ کار ، جس پر ہم اب تک کاربند ہیں ، ہمیں کسی نہج پر پہنچانے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان لوگوں کو آزادانہ طور پر سوچنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ہی نصاب کو سائنس میں بہترین صلاحیت رکھنے والے طالب عالم اور موسیقی میں دلچسپی رکھنے والے طالب علم پر نہیں تھوپ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کا آدھا وقت ہی کلاس روم میں گزرنا چاہئے جبکہ باقی وقت سماج کے ساتھ ، کھیل کے میدان میں ، فطرت کی گود میں یا کھلی فضا میں گزرنا چاہئے تاکہ متوازن تعلیم کو یقینی بنایا جاسکے۔
مسٹر نائیڈو نے طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنی ڈگریوں اور حاصل کردہ نمبروں کی فہرست کے دائرے میں محدود نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف بنیاد ہے اور یہاں انہوں نے جو تعمیر کیا ہے ، جو وہ کرنا چاہتے ہیں اور جو وہ زندگی میں بننا چاہتے ہیں، یہ پوری طرح آپ پر ہی منحصر ہے۔
نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اعلیٰ تعلیم کی ایک اہم درسگاہ کے طور پر ہندوستان کی قدیم عظمت کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا جب ہندوستان ’’وشوگرو‘‘ کے طور پر جانا جاتا تھا اور ہماری یونیورسٹیاں بہترین کارکردگی کے بین الاقوامی مرکز سمجھے جاتے تھے، انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کی مانگ کو پورا کرنے میں سرگرم رول ادا کریں اور غریب اور ضرورت مند طلباء کو رعایت والی تعلیم فراہم کرنے کے طریقہ تلاش کریں۔
نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ آج ہندوستان کثیر آبادی کے فائدے والا ایک ملک ہے جس کی 65 فیصد آبادی 35 سال کی عمر سے کم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم اپنی وسیع نوجوان آبادی کو مناسب طور پر تعلیم اور صلاحیت فراہم کرنے میں ناکام رہے اور ہم ان کے وسیع امکانات کو مؤثر طور پر حاصل کرنے میں ناکام رہے تو یہ بڑی آبادی کا فائدہ ہمارے لئے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
اس تقریب میں انسانی وسائل کے فروغ کے مرکزی وزیر مملکت ستیہ پال سنگھ ، یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش تیاگی ، فیکلٹی کے ارکان، دہلی یونیورسٹی کا عملہ ، طلباء اور ان کے والدین موجود تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close