ادبی مضامین

"ہندوستان میں کیمونسٹ پارٹی کے بانی رکن سجاد ظہیر کی فن و شخصیت "


کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جب ہم بانی اراکین کی بات کر تے ہیں تو ان میں اردو ادب کے معروف دانشور ادیب جناب سجاد ظہیر کا نام احترام سے لیا جاتا ہے. آپ کے آباؤ اجداد کا تعلق ضلع جونپور کے بڑا گاؤں سے تھا.
سید سجاد ظہیر 5 نومبر ، 1905 کو ریاست اودھ کے چیف جسٹس سر وزیر خاں کے یہاں پیدا ہوئے۔ اپنی ابتدائی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے سجاد ظہیر ایک جگہ اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں.
"مولوی رضی حسن صاحب پیش امام تھے ہم سبھی بہن بھائی سورج نکلنے سے پہلے ہاتھ منھ دھو کر سیدھے ان کے کمرے جاتے. ایک رکوع تلاوت کرتے. مولوی صاحب سنتے رہتے اور ہمیں صحیح قرآن پڑھنا سکھاتے بعد ہم کو ہم میں سے ایک مولوی صاحب کا حقہ بھرتا اور پھر پہلے عربی اور بعد میں فارسی کا سبق دیا جاتا ”
جبکہ لکھنؤ یونیورسٹی سے لٹریچر کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ظہیر نے برطانیہ جاکر آکسفورڈ یونیورسٹی سے بے اے آنرز کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد 1931 میں یہاں آ کر سجاد ظہیر نے قانون کی سند BAR AT LAW کے لیے رجسٹریشن کروا یا ساتھ ہی ادب کا بھی مطالعہ جاری رہا اور اس کے علاوہ سیاسی سرگرمیوں میں فعالیت کے ساتھ شرکت کرتے رہے. اس زمانے میں یورپ ایک طرح سے سورشوں کے دور سے گزر رہا تھا. اس حوالے سے سجاد ظہیر یادیں میں لکھتے ہیں کہ "فاشزم کے ظلم کی درد بھری کہانیاں ہر طرف سنائی دیتیں. جرمنی میں آزادی پسند اور کمیونسٹوں کو سرمایہ داروں کے غنڈے طرح طرح کی جسمانی اذیتیں پہنچا رہے تھے. وہ ہولناک تصویر یں جن میں عوام الناس کے ہر دل عزیز لیڈروں کی پیٹھ اور کولہے کوڑوں کوڑوں کے نشانوں سے کالے پڑے ہوئے دکھائی دیتے تھے اور وہ اندوہناک اندھیرا جو علم و ہنر کی چمکدار دنیا سے جس کا نام جرمنی تھا پھیلتا ہوا سارے یورپ پر اپنی ڈراؤنی پرچھائیں ڈال رہا تھا اور ان سب نے ہمارے دل و دماغ کے اندرونی اطمینان و سکون کو مٹا دیا تھا. ”
1932میں افسانوی مجموعہ “انگارے“ جس میں علی احمد، رشید خان، محمد الظفر اور سید سجار ظہیر کے افسانے شامل تھے، برطانوی راج نے اہل ہندوستان کے مذہبی ابہامات کو نشانہ بنانے کے الزام میں ضبط کر لیا گیا۔
سجاد ظہیر کا شمار کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانی و فعال اراکین میں سے ہوتا ہے ۔ جبکہ 1948ء میں انہوں نے فیض احمد فیض کے ساتھ مل کر کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی بنیاد رکھی۔ یہاں دونوں رہنما ہی بعد میں راولپنڈی سازش کیس کے تحت گرفتار کر لیے گئے تھے ۔انکے ساتھ ہی اس مذکورہ مقدمہ کے تحت محمد حسین عطا اور ظفراللہ پشنی سمیت کئی دیگر افراد بھی گرفتار ہوئے تھے ۔ جبکہ میجر جنرل اکبر خان اس سازش کے مبینہ سرغنہ تھے۔ 1954ء آپ جلا وطن کر دیے گئے اور یہاں ہندوستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین، انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن اور ایفرو ایشین رائٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ سجاد ظہیر ناصرف ان تینوں تنظیموں کے روح رواں تھے بلکہ ان کے بانیوں میں سے تھے۔ معروف نقاد قمر رئیس اپنی کتاب سجاد ظہیر :حیات و ادبی خدمات کے حرف آغاز میں لکھتے ہیں کہ،”سجاد ظہیر ہمارے ملک کے ایک عہد ساز ادیب اور دانشور ہیں وہ بلا شبہ بیسویں صدی کی ان قد آور شخصیتوں کی صف سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے اپنے فکر و عمل سے، اپنے سیکولر، جمہوری نظریات سے اور اپنے تہزیبی وژن سے آزاد جدید ہندوستان کی تعمیر کا ایک روشن تصور دیا. ان کی حب الوطنی، انسان دوستی سائنسی عقل و دانش سے ہی قومی ہم آہنگی، تہذیبی یکجہتی اور معاشرتی تعمیر و ترقی کا وہ ماحول پیدا ہو سکا جس میں سانس لے کر آج ہم اعتماد و طمانیت محسوس کرتے ہیں اور جس کے سہارے ہر طرح کی مشکلات سے قابو پاتے ہوئے ہم اب نئی صدی کی وادیوں میں داخل ہو چکے ہیں ”
آپ کی معروف تخلیقات میں ناول : “لندن کی ایک رات“ "روشنی“، ترقی پسند ادب اور تحریک پر ادبی مضامین” ذکر حافظ“، فارسی شاعرحافظ پر ملفوظات۔ شعری مجموعہ "پگھلتا نیلم“ شامل ہیں. اس کے علاوہ آپ نے مختلف انگریزی کتابوں کے اردو میں تراجم کیے گئے. آپ کی شخصیت و فن کے تعلق سے مختلف نمبر شایع ہو چکے ہیں.
یہاں قابل ذکر ہے کہ انکی اہلیہ رضیہ سجاد ظہیر بھی اردو کی جانی پہچانی ناول نگار ہیں۔ ان کی چار صاحبزادیاں ہیں۔ ان کی صاحبزادی نادرہ ظہیر بائیں بازو کی سیاسی کارکن ہیں، ان کی شادی بالی ووڈ کے نامور فلمی ستارے اور موجودہ دور میں کانگریس کے سرگرم لیڈر راج ببر سے ہوئی۔ آریہ ببر اور جوہی ببر ان کی اولادیں ہیں۔
سجاد ظہیر نے 11 ستمبر 1973ء کو الماتے، (قازقستان)، جو تب سوویت یونین کا حصہ تھا، میں ایفرو ایشیائی مصنفین کی تنظیم کے ایک اجلاس کے دوران وفات پائی۔
آپ کی ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے دی گئی مختلف خدمات کے اعتراف میں سال 2005ء کو دنیا بھر کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف سے سجاد ظہیر کے صد سالہ سال پیدائش کے طور پر منایا گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close