ہندوستان

ہندوستان کے قانونی نظام کو طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا : رام ناتھ کووند

نئی دہلی:صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند نے آج (یکم ستمبر 2018) نئی دہلی میں سپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ کے ذریعہ منعقد کیے جا رہے قومی کانفرنس کا افتتاح کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ بے یار و مددگار لوگوں کو انصاف دلانے والے کے طور پر ہندوستان کی عدلیہ کا احترام دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے جج صاحبان کے پاس مقدموں کے انبار ہے۔ نتیجتاً ہندوستان کے قانونی نظام کو طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی مختلف عدالتوں میں 3.3 کروڑ مقدموں کا انبار ہے۔ ان میں سے 2.84 کروڑ مقدمے ذیلی عدالتوں میں ہیں۔ بقیہ 43 لاکھ مقدمے ہائی کورٹ میں اور 58000 مقدمے سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ تاخیر کے متعدد اسباب ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کے کمی اور قابل لحاظ اسامیوں کا خاص طور پر ذیل عدالتوں میں خالی ہونا شامل ہے۔ سماعتوں کے التواء کلچر عام ہوگیا ہے۔ بتدریج بار بار سماعتوں کے التواء نئی سوچ پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معمول کو ختم کرنے کے لیے عدلیہ سنجیدہ کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے یقین کا اظہار کیا کہ وکلاء برادری ماسوا بے حد ناگزیر حالات کیسماعتوں کیالتواءسے متعلق مسئلے کو حل کرے گی۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمارے وکلاء قانون سے جڑے پیشہ ور افراد کے مطالبے میں حالیہ دہائیوں کے دوران ڈرامائی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ جیسے ہی ہندوستانی معیشت آزاد ہوئی ، کاروبار اور تجارت سے متعلق قوانین اور ٹکنالوجی کے قوانین قابل توجہ اور نئی خصوصیات کے حامل ہوگئے ہیں۔ ان کی پڑھائی نے ہمارے قانونی نظام تعلیم میں ایک چمک پیدا کر دی ہے۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ سرکاری یونیورسٹیوں میں روایتی قانون کے شعبہ ہندوستان میں وکلاء برادری کے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوا ہے۔ نجی اور اختراعی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فنڈنگ تک رسائی سمیت ان کی یکسر تبدیلی کو ایک عام کوشش ہونی چاہیے۔ جب یہ ایک خاص حیثیت کے قانون سے متعلق نجی اسکولوں میں ہوتا ہے تو غالباً امتیازی اداروں کی حیثیت سے ان کی شناخت کر کے بار کونسل آف انڈیا انہیں زیادہ سے زیادہ خود مختاری فراہم کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close