ہندوستان

یاد کئے گئے مشہور زمانہ شاعر جون ایلیا

نئی دہلی :آٹھ سال کی عمر میں پہلا شعر کہنے والے اردو کے منفرد لب و لہجے کے بر صغیر کےمشہور زمانہ شاعر جون ایلیا نے آج ہی دن 2002 میں اپنے چاہنے والوں سے دائمی رخصت لی تھی۔ ہندستان، پاکستان سمیت کئی ملکوں کے ادبی حلقوں میں آج ان کی 16ویں برسی کے موقع پر اہل اردو نے انہیں شدت سے یاد کیا۔جون ایلیا جو فلسفی بھی تھے آج ہی کے دن 1931 میں اترپردیش کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔مرحوم کے والد ماجد سید شفیق حسن ایلیا بھی برصغیر کے نامور شاعر تھے۔ جون ایلیا نے معروف شاعر، صحافی اور دانشور رئیس امروہی اوردوسرے فنکار بھائیوں کے ساتھ ادبی ماحول میں پرورش پائی۔
تقسیم ہند کے بعد غیرطے شدہ ہجرت نے امروہہ کی جو رونق اجاڑی اس ہجرت کا حصہ ان کا خاندان بھی بنا۔ اس طرح جون 1957 میں ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے اور کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔
جون ایلیا کی ایک منفرد پہچان یہ بھی ہے ان کا پہلا مجموعہ’’شاید(1991)‘‘ ان کی زندگی میں اور دوسرا مجموعہ’’یعنی(2003)‘‘ان کی موت کے بعد شائع ہوا۔حالانکہ وہ زود گوئی کی حد تک شاعری میں غرق رہے۔ البتہ ہمیشہ اچھے اشعار کہے اور نسل در نسل سننے والوں کو چونکاتے رہے۔
اپنے ہم عصروں میں نمایاں مقام رکھنے والے جون کا تیسرا مجموعہ’گمان ‘ 2004 میں، چوتھا مجموعہ ’لیکن‘ 2006 میں اور پانچواں مجموعہ ’گویا‘ 2008 میں شائع ہوا۔ نثر میں بھی ان کی دو کتابیں’’ فرنود‘‘ اور’’ راموز ‘‘بھی اُن کی وفات کے بعد ہی منظرِعام پر آئیں۔فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، مغربی ادب پر جون ایلیا کا علم بے کراں تھا اور اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی شاعری میں بھی شامل کیا ۔
مختلف زبانوں بشمول فارسی ‘ عربی‘ سنسکرت پر خاص عبور رکھنے والےجون نے مغربی ادب کے تراجم پر بھی وسیع کام کیا اوردنیا کی 40 کے قریب نایاب کتابوں کے تراجمے کئے۔جون ایک ادبی رسالہ ’انشا‘ سے بطور مدیر بھی وابستہ رہے جہاں انکی ملاقات نامور ادیبہ اور کالم نگار زاہدہ حنا سے ہوئی, جن سے انہوں نے شادی کر لی تھی ۔جون کے زاہدہ حنا سے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980 کی دہائی کے وسط میں ان کی طلاق ہو گئی تھی۔اسکے بعد تنہائی اورکثرتِ شراب نوشی نے انہیں تیزی سے طویل علالت کا شکار بنا دیا۔ 8 نومبر 2002 کو 71 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔کراچی کے سخی حسن قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔جون نے اپنی موت کی قبل از موت علامتی اطلاع ان الفاظ میں دی تھی۔’ اگر میں یہ مان لوں کہ جون ایلیا مر گئے تو پھر تمہیں یہ ماننا پڑے گا کہ آج ایک سقراط مر گیا، ہومر مر گیا، تاسیس ملیٹی! ہاں، وہ بھی گیا ارسطو، وہ بھی ہاں، ہاں ۔۔۔ ہاں! ابنِ مسکویہ، فارابی، ابن رشد، بو علی سینا، طوسی، خیام سعدی، عرفی، رومی، نطشے، برٹرینڈرسل، برنارڈ شاہ، یہ سب مر گئے ایک پوری کی پوری بستی فنا کے گھاٹ اتر گئی۔۔۔‘

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close