ادبی مضامین

یومِ سرسید پر خاص: سر سید جیسی دوربینی آئے کہاں سے؟


پروفیسر صغیر افراہیم
مرد اولوالعزم اور جامع کمالات وصفات اور سب سے بڑھ کر محسنِ ہندوستان سرسید احمد خاں کے دو صد سالہ یومِ پیدائش کے موقع پر ہم بڑے تزک واحتشام سے ایک عظیم الشان جشن کا اہتمام کریں گے ۔یقین جانیے، کل سے کہیں زیادہ آج، اس جشن کے انعقاد کی ضرورت اور اہمیت ہے۔ ویسے بھی مختلف بہانوں سے اپنے محسن کو یاد کرنا ہمارا خوش گوار فریضہ ہے اور اس لیے بھی کہ سرسید کی گوناگوں خدمات ہمارے لیے آج بھی مشعلِ راہ ہیں۔ حالیؔ نے ٹھیک ہی کہاہے:ترے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے ان کوکریں گے ذکر ہر مجلس میں اور دہرائیں گے ان کوسرسید کے عظیم احسانات کے پیش نظر،عرصہ سے محبانِ وطن کے ایک بڑے حلقے کی دلی آرزو ہے کہ سرسید کوبطور خراجِ عقیدت ’بھارت رتن‘ پیش کیا جائے اور اِس کے لیے یہ موقع نہایت مناسب ہے جب کہ بعض بہی خواہانِ وطن کایہ کہنا ہے کہ اُن کی قدآور شخصیت ’بھارت رتن‘ کے اعزاز سے بہت بلند ہے۔ تاہم اِس خطاب کے حق میں رائے رکھنے والے حضرات یہ جوازپیش کرتے ہیں کہ اُن کے قائم کردہ ادارے کے خلیل القدر فرزندگان خان عبدالغفار خاں اور ڈاکٹر ذاکر حسین اِس باوقار اعزاز سے سرفراز ہوچکے ہیں۔تو بانئ دانش گاہ کو کیوں کر محروم رکھا جائے۔بات اعزاز واکرام کی نہیں بلکہ اُس قدآورشخصیت کی ہے جس کی عظیم الشان خدمات کے سبھی قائل ہیں تو ایک اعترافی اقدام سے چشم پوشی کیوں ؟ سخت سے سخت تنقیدی زاویۂ نگاہ کاحامل کوئی ہندوستانی کیا اِس حقیقت کو فراموش کرسکے گا کہ سرسید انتہائی پُرآشوب دور میں مطلع ہند پر ایک عہد ساز ہستی بن کر وارد ہوئے اور ہر نظریے اور رُجحان پر غالب آگئے۔ تجدیدِ فکر اور احیائ ملّی کی زبردست کوششیں ایک طرف، بحیثیت مجاہد تحریک آزادی ، کیا ہم سرسید کو فراموش کرسکیں گے۔ وہ سرسید جس نے پنجاب یونیورسٹی کے احاطے میں لارڈ لٹن کی اسپیچوں کی دھجیاں اڑادیں اور وہ جانباز برٹش آگرہ دربار سے برہم ہوکر اٹھ کھڑا ہوا کہ دربار میں ہندوستانیوں اور انگریزوں کی کرسیاں برابر درجہ پر نہ تھیں۔ بھارت رتن کااعزاز ، اس نابغۂ روزگار شخصیت کی تکریم کے لیے لازم نہ سہی، لیکن قومی، وطنی اور بین الاقوامی سطح پر محض اعترافِ صداقت کے لیے صرف ضروری نہیں بلکہ بہت ضروری ہے۔ یہ ہندوستان کے وقار کا سوال ہے، ہندوستان کی عظیم ترین روایات کی تائید وتوثیق کا سوال ہے اور وطن عزیز کے ضیا پسندوں کے افتخار کا سوال ہے، جس کی تکمیل وتعمیل ہونی ہی چاہیے۔ سرسید نے کیا خوب کہا تھا: ’’کسی قوم کے لیے اس سے زیادہ بے عزتی نہیں کہ وہ اپنی قوم کی تاریخ کو بھول جائے اور اپنے بزرگوں کی کمائی کھودے‘‘۔ سرسید کی دُورر سی اور دُور بینی کے مظاہر حد درجہ کرشماتی اور حیرت انگیز ہیں۔ آج بھی ان کرشموں کو اگر دانش حاضر پیش کرے تو بلاشبہ حیرت انگیز نتائج برآمد ہوں گے۔ مگر وائے رے ناکامی! یہ دوربینی آئے کہاں سے۔ انھوں نے استعماری اور قہرمانی قوتوں سے ٹکّر لینے کے لیے مزاحمتی اور مدافعتی طریقِ کار نہیں بلکہ مفاہمتی انداز بصورت مسابقانہ اختیار کیا، مفاہمت میں فرار کا راستہ ترک کیا اور عزیمت کا راستہ منتخب کیا، راستے کی آزمائشوں کو اپنی دانش ورانہ صلح جوئی کے ذریعہ حل کیا، تشدد کی جگہ عدم تشدد کی راہ کو اپنایا، اور حاکمانِ وقت کو بغیر کسی تردد و تامل، ایک چنوتی دی کہ ہمیں باغی کہنا غلط ہے اور ثابت بھی کردکھایا، اِس کے علاوہ اُن اسباب کا تجزیہ کیا کہ جنھیں اگر پھر دوہرایاگیا تو ہندوستانی فی الواقعی باغی ہوجائیں گے۔ اس لیے ان اسباب کو سمجھنے اور سمجھانے کی شدید ضرورت ہے۔ انھوں نے ایسامنطقی انداز اختیار کیا،جو محض عوام کے لیے ہی نہیں، فرنگیوں کوبھی متنبہ کرنے کاایک زبردست آلۂ کار ثابت ہوا۔ اُس صاف گو، بے باک اور منصف مزاج حکیم نے ارض ہند کی منتشر بساط کو اپنی مفاہمت آمیز دانش وری سے ترتیب دیا، اس کو مربوط کیا اور وطن کی قومی توقیر کو سربلند کیا۔سرسید نے اقوام ہند کو آگاہ کیا کہ ہندو، مسلمان دونوں کی عزتیں اور دونوں کاوقار، در اصل ہندوستان کا وقار وافتخار ہے۔ ۲۶؍جنوری ۱۸۸۹ئ امرتسر میں تقریر کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’ہندوؤں کی ذلت سے مسلمانوں کی اور مسلمانوں کی ذلت سے ہندوؤں کی ذلت ہے۔ پھر ایسی حالت میں جب تک یہ دونوں ایک ساتھ پرورش نہ پاویں، ساتھ ساتھ دودھ نہ پئیں۔ ایک ہی ساتھ تعلیم نہ پاویں، ایک ہی طرح کے وسائل ترقی دونوں کے لیے موجود نہ کیے جاویں، ہماری عزت نہیں ہوسکتی‘‘۔ مجھے کہنے کی اجازت دیجیے تو بغیر تامل عرض کروں کہ سرسید کو ’’بھارت رتن‘‘ کااعزاز دے کر ہم خود کو ہی معزز کریں گے۔ اور مہان بھارت کو فی الواقعی اور مہان بنائیں گے۔ گم شدہ میراث کی بازیافت کا جذبہ سرسید کے یہاں شدت سے موجود ہے مگر جوش سے نہیں، ہوش کے ساتھ، سرسید نے مطالبات منوانے اور باعزت زندگی گزارنے کا جونسخہ استعمال کیا، اُس پر ہمارے سربرآوردہ قائدین نے عمل کیا اور وہ ایک تاریخ ساز کامرانی سے ہم کنار ہوئے۔ اب ایک فطری سوال قائم ہوتا ہے کہ سرسید کی سیاسی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، علمی، ادبی، تہذیبی اور صحافتی خدمات سے ہمارے عہد کے لوگ پوری طرح واقف کیوں نہیں ہیں؟ عالمی سطح کوجانے دیجیے، قومی سطح پر نئی نسل اُن سے کس حد تک واقف ہے، یہ ایک غور طلب لمحۂ فکریہ ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اتنے بڑے ملک میں سرسید کی خدمات کا دائرہ صرف علیگ برادری اور اُن سے وابستہ افراد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے؟ وہ بھی صرف ’سرسیدڈنر‘ تک۔ اس ضمن میں اس دائرے کی محدود ترین صورت میں ہم صرف اپنے ادارے کو ہی دیکھیں تو بانیِ درس گاہ کے روضہ پر 17؍اکتوبر کو علی الصباح ایصالِ ثواب کا جو منظر ہوتا ہے وہ آفتاب کی شعاعوں اور حرارت کے مطابق بدلتا چلا جاتا ہے۔ صبح سے ہی منتظمین کے پاس فری ڈِنر کارڈ کے لیے فون آنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، جو شام تک جاری رہتاہے__ بقیہ ہلچل کیا، اور اس کاذکر کیا__ محض رسم کی ادائیگی پر اختتام۔ سرسید تحریک کی افادیت اور عصر حاضر میں اُس کی معنویت کو کارگر بنانے کے لیے نیزسیدی مشن مزید بامعنی کامیابی کے لیے سخت محنت درکار ہے۔ ہندوستانی عوام خصوصاً نئی نسل سرسید کے کارناموں سے کس طرح واقف ہو، یہ آج کا اہم ترین سوال ہے۔ اس ضمن میں ’’بھارت رتن‘‘ کے اعزاز کو ’’سرسید تعارف‘‘ کی جانب ایک پیش قدمی کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ ایسی پیش قدمی کرنی چاہیے ورنہ سوالات باقی رہیں گے! 17؍اکتوبر ملک گیر سطح پر کیوں نہیں منایا جاتا؟ قومی سطح پر علمی مذاکرات، یا تعارفی ریلی یا جلسوں کا سرکاری سطح پر انعقاد کیوں نہیں ہوتا؟ ابھی چند دنوں پہلے ادارۂ ’تہذیب الاخلاق‘ میں ڈاکٹر راحت ابرار کے ساتھ ممبئی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے صدر اور مشہور صحافی ہارون رشید مرحوم کے سلسلے سے گفتگو ہورہی تھی۔ تین دہائی قبل کا ایک واقعہ زیر بحث تھا۔ موصوف ممبئی میں سرسید تقریبات کے انعقاد کے لیے ڈاکٹر مادھوری آرشاہ کو مدعو کرنا چاہتے تھے جو اُس وقت ہندوستان میں واحد نسائی یونیورسٹی (SNDT) کی وائس چانسلر تھیں اور بعد میں یو۔جی۔سی۔ کی چیرمین ہوئیں، جب اُن سے ہارون رشید صاحب نے سرسید تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے پُرخلوص دعوت پیش کی اور ان سے شرکت کی درخواست کی تو فوری طور پر وہ سرسید کو Recall نہیں کرسکیں تاہم تفصیل سُننے کے بعد اُن کی مداح ہوگئیں۔ اور فرمایا:مظہرِ شانِ حسنِ فطرت تھا معنیٰ لفظِ آدمیت تھاباور ہو کہ اگر قومی حافظے سے سرسید کی آفتابی شبیہ کو تازہ کار کرنے میں مزید تاخیر ہوئی تو اِس میں شدید قصور ہمارا ہی ہوگا کہ ہم قومی حافظے کو تازہ کرنے میں مسلسل کوتاہی برت رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ اس کوتاہی کی سزا ہم پر یا ہماری آئندہ نسلوں پر وارد ہو۔ ذرا وسیع پس منظر میں 17؍اکتوبر کو دیکھنے کی کوشش کیجیے۔ کیا سرکاری اور غیر سرکاری ادارے سرسید تحریک کے کسی پہلو کے پیش نظر کچھ کرتے ہیں؟ اس یونیورسٹی کے سوا کہیں تعطیل کا اعلان ہوتا ہے یا کوئی رسمی پروگرام ہی قومی سطح پر برپا ہوتا ہے۔ مانیے کہ ساری غلطی اور لاپرواہی ہماری ہے۔ اتنا ہی نہیں کیا اُس دن پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اپنا حق ادا کرتا ہے؟ اگر کہیں کچھ ہوتا بھی ہے تو ایک محدود دائرے میں، جس سے ایک بات فوری طور پر ذہن میں آتی ہے کہ ذرائع ابلاغ کے مزاج کے پیش نظر ابلاغ وترسیل کے لیے نئے زاویوں کے مطابق نئے منصوبوں سے کام لینا ہوگا۔ ایسے عوامی ذرائع کا استعمال کرنا ہوگا جن میں بچوں کی دلچسپی کے ایسے سامان ہوں کہ اُن کی قوتِ کشش سے بچے خود اِس جانب مائل ہوں، نوجوانوں کی نفسیات کے تعلق سے سوشل میڈیا میں آسان زبان میں مختلف پروگرام چلائے جائیں۔ ہم بحث ومباحثہ ، انٹرویوز، چھوٹی چھوٹی نہایت دلچسپ ڈاکومینٹری فلموں اور ڈراموں وغیرہ کی مدد سے سرسید تحریک کو مقبول عام اور عالم گیر بناسکتے ہیں۔ مگر ہمیں بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ سیدی اقوال کی سی۔ڈی بنواکر اُس دن کسی نہ کسی ذریعے سے عوام تک پہنچانے کا بندوبست کرنا وقت کا اہم ترین تقاضاہے۔ آج وسائل اور ذرائع کی کمی نہیں، بس سرسید کے مشن اور پیغام کو جدید انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید اِس عمل سے ایک وسیع حلقے تک سرسید کے افکار ونظریات اور اُن کی بیش بہا خدمات مثبت انداز میں منتقل ہوسکیں۔ یہ کہنے سے کام چلنے والا نہیں کہ ’’دھوپ تھی، گئی آفتاب کے ساتھ‘‘ بلکہ عزم وہمت اور نئے تقاضوں کے ساتھ، سرسید افکار کو نگر نگر اور ڈگر ڈگر عام اور عالمگیر کرتے ہوئے قصرِ جمہوریت تک پہنچاتا ہے۔ نئی ملکی فضا اور نئی سیاسی تحریکوں کے پیش نظر سرسید مفاہمیت تھیوری کو مکمل ہوش مندی کے ساتھ برروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ خوشامد اور بزدلی سے نہیں، حکمت وتدبر کے ساتھ، مکمل درد مندی کے ساتھ ، ایوان سیاست کے دروازے پر بھی دستک دینے کا وقت پھر آگیا ہے:ہوگا کسی فلک پہ وہ خورشید جلوہ گر کہتے ہیں آفتاب کبھی ڈوبتا نہیںبے شک ہمیں خود اپنااحتساب بھی کرنا چاہیے کہ ہم نے اس سلسلے میںاب تک کیاکیا ہے؟ کیا ہم نے اردو کے علاوہ ہندی، انگریزی یا کسی اورہندوستانی زبان میں سرسید کو ماہر تعلیم کی حیثیت سے پیش کیا؟ سرسید نے بین المذاہب مکالمے کا جو سلسلہ شروع کیاتھا، اس سلسلے کو ہم نے آگے بڑھایا؟ یا اس کی بڑے پیمانے پر اشاعت وتشہیر کی؟ کیا سرسید کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل کوئی بڑا پروجیکٹ تیار کرکے ہم نے ان کے الگ الگ کارناموں کو الگ الگ جلدوں کی صورت میں محفوظ کیا!!! اور ملک کی دیگر زبانوں کی بات چھوڑئیے ہندی بھاشا میں سرسید پر کتنی کتابیں منظر عام پر آئیں، اور نہیں آئیں تو کیوں؟ ایسی صورت میں صرف ایک چارہ ہے اور ملک کے تمام باشندوں کا خوش گوار قومی فریضہ بھی ہے کہ قومی توقیر کی خاطر، حکومت پر نہایت حکمت عملی کے ساتھ دباؤ بنائیں اور تجویز پیش کریں کہ سرسید کے شایانِ شان، اُنھیں قدرومنزلت سے نوازا جائے، جو ملک وملت کے لیے بے حد مفید ہوگا۔ ملکی سطح پر خلوصِ دل سے پیش جذبۂ عقیدت واحترام کا یہ مظاہرہ اور دوسرے عملی اقدامات ،بلاشبہ قومی یک جہتی ، رواداری اور مساوات کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رُکے گا بلکہ نئی نسل بغیر کسی تخصیص وتمیز کے سرسید کو زیادہ قریب سے پہچان سکے گی۔ حقائق سے بخوبی واقف ہوکر آنے والی نسل بہ بانگ دہل کہے گی کہ جب سرسید کے عہد کے غیر مسلم مصلحین، دانش ور، اورمستشرقین ہی نہیں ،بلکہ سرسید کے مداحوں کا ذکر نصابی کتابوں میں کثرت سے موجود ہے تو پھر سید والاگہر کی عہد ساز شخصیت کا ذکر اُن کے شایانِ شان کیوں نہیں ہوتا؟ اِس مقصدکو موثر اور معتبر انداز میں پوری طرح سے اُجاگر کرنے میں اگر ہم کامیاب ہوگئے تو سرسید کے تئیں یہی سب سے بڑا خراجِ تحسین ہوگا اور سرسید کی پیدائش کے جشن کو منانے کا مدلل اور موثر جواز بھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close