مضامین

2019میں بی جے پی کے لئے بوجھ ثابت ہونگے نریندر مودی؟

کوئی بھی فوج ایسے کمانڈر کی قیادت میں نہیں لڑنا چاہتی جو اسے شکست کے راستے پر لے جائے۔ اگر فوج اس صورت حال کو قبول کربھی لے تو کوئی سیاسی پارٹی ، ہرگز ایسا قبول نہیں کرسکتی۔ یہی سبب ہے کہ اب نریندر مودی کے خلاف خود ان کی اپنی پارٹی میں ہی آواز اٹھنے لگی ہے۔چندسال قبل یہی صورت حال کانگریس میں تھی، جب راہل گاندھی کی جگہ پرینکا گاندھی کو لانے کی مانگ اٹھ رہی تھی مگر اب معاملہ برعکس دکھائی دے رہا ہے۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن میں کیا ہارے کہ اب بی جے پی کے اندر ہی نریندر مودی اور ان کے دست راست امت شاہ کے خلاف آواز اٹھنے لگی ہے۔ بی جے پی کی شکست کو وزیراعظم نریندر مودی اور پارٹی کے قومی صدر امت شاہ کی ہار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری نے گزشتہ دنوںاپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرپارٹی قیادت جیت کا کریڈٹ لیتی ہے تو اسے شکست کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہئے۔ ان کے اس بیان کو سیدھے طور پر نریندر مودی اور امت شاہ کے خلاف اعلان بغاوت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ پارٹی کے اندر لعل کرشن اڈوانی، سشماسوراج، راج ناتھ سنگھ، مرلی منوہر جوشی جیسے لیڈروں کی ایک لمبی فہرست ہے ،جنھوں نے موقع کے انتظار میں چپی سادھ رکھی تھی۔مدھیہ پردیش اور راجستھان کے سابق وزراء اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور وسندھرا راجے سندھیا کو بھی ایسے ہی لیڈروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف بعض ممبران پارلیمنٹ اور کچھ پارٹی عہدیداروں کی جانب سے یہ بھی کہاجانے لگا ہے کہ پارٹی کو اب ہندتو، گائے اور مندر جیسے ایشوز کے بجائے ترقی کی بات کرنی چاہئے۔بی جے پی کے ایک سینئرلیڈر سنگھ پریہ گوتم نے مودی ،یوگی اور امت شاہ پر سخت تنقید کی ہے تو دوسری طرف شیوسینا نے بھی بی جے پی پرنشانہ سادھا ہے۔ بی جے پی کے ممبرپارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے وزیراعظم مودی سے پوچھا ہے کہ اب بتائیں ’پپو‘کون ہے تو بی جے پی کے سابق لیڈر یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے مودی کو بھگوان کا درجہ دے رکھا ہے ،اسی لئے وہ ان سے شکست کے لئے جواب طلب نہیں کرتی۔ادھر انتخابی نتائج کے فوراً بعد ہی لکھنو میں ایسے پوسٹر اور ہورڈنگس دیکھے گئے جن میں نریندر مودی کی جگہ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو لانے کی بات کی گئی تھی۔شتہارات میں لکھا تھا ’’جملے بازی کا نام مودی، ہندوتو کا برانڈ یوگی‘‘۔ یعنی ایک طرف تو مودی کی تضحیک کی گئی ہے ،وہیں دوسری طرف یوگی کو برتر ظاہر کرنے کی کوشش بھی دکھائی پڑتی ہے۔
بغاوت کی آوازیں
بھارتیہ جتنا پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سنگھ پریہ گوتم نے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں پارٹی کی شکست کو ’مودی منتر‘ اور ’امت شاہ کی حکمت عملی‘ کی ہار قرار دیا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے حکومت اور پارٹی میں تنظیم نو کی ضرورت پر زور دیا۔ گوتم نے باقاعدہ طور پر ایک بیان جاری کرکے کہا کہ مستقبل قریب میں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ مودی کی حکمت عملی اب کارآمد نہیں رہی۔پورے ملک میں پارٹی کے کارکنوں میں مایوسی ہے۔ ان کے دلوں میں بے چینی ہے لیکن وہ زبان نہیں کھول پارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی بھلائی کے لئے 2019 کے عام انتخابات میں بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں لانا اور مودی کا دوبارہ وزیراعظم بننا بہت ضروری ہے۔ اس لئے حکومت اور تنظیم میں باضابطہ تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بطوربی جے پی صدر امت شاہ کی مدت کار اسی جنوری میں ختم ہونے والی ہے اور اگر مودی مخالفین کی چلی تو امت شاہ کی جگہ مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کو پارٹی کا قومی صدر بنایا جاسکتا ہے اور انھیں کی قیادت میں پارٹی آئندہ عام الیکشن لڑسکتی ہے۔ ادھربی جے پی کے باغی ایم پی شتروگھن سنہا نے بھی ایک ٹویٹ کر کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی ہار پر وزیراعظم کو نشانہ بنایا ہے۔پٹنہ صاحب کے ممبرپارلیمنٹ نے لکھا سرجی !تالی کپتان کو تو گالی بھی کپتان کو۔ انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ پیسے کی طاقت اور سوٹ بوٹ والی حکومت ناکام ہوگئی۔جب کہ بی جے پی کے سابق سینئررہنما اور اٹل بہاری واجپائی کی سرکار میں وزیر رہ چکے یشونت سنہا نے کہاکہ بی جے پی کے اندر کوئی ایسانیتا نہیں ہے جو مودی سے سوال پوچھے۔ پارٹی نے ایک شخص کو بھگوان کی حیثیت دے دی ہے اور وہ سوچتی ہے کہ بھگوان کبھی بھی کوئی غلطی نہیں کر سکتا۔ سنہا نے کہا کہ بی جے پی میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں، جو محسوس کرتے ہیں کہ نریندر مودی کبھی غلط نہیں ہوسکتے۔ وزیر اعظم نے کابینہ کے تمام حقوق اپنے پاس رکھے ہیں۔تمام وزارتوں کا کام صرف PMO سے ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے، انہیں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔
’رام مندر‘ والے بھی ناراض
وزیراعظم نریندر مودی سے صرف پارٹی کے لوگ ہی مایوس نہیں ہے بلکہ و ہ ووٹر بھی مایوس ہیں جو گزشتہ تیس برسوں سے رام مندر کے نام پر بی جے پی کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ مندر تحریک سے جڑے ہوئے سادھو سنت بھی اپنی لائی ہوئی حکومت سے ناخوش ہیں۔ حالیہ ایام میں ایسی کئی دھرم سبھائیں ہوئیں جن میں رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا۔ اس معاملے کو اپنے ہاتھ سے نکلتا دیکھ ایک بار پھر وشوہندو پریشد، بجرنگ دل اور آرایس ایس جیسی جماعتیں اس معاملے میں سرگرم ہوگئی ہیں۔ گزشتہ دنوں دہلی کی ایک دھرم سبھا میں سوامی پرمانند نے مودی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نریندر مودی نے رام مندر کی تعمیر کا وعدہ پورا نہیں کیا تو پھر ہم اسے اقتدار میں آنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نہ ہی آپ کی کٹھ پتلی ہیں اور نہ ہی آپ سے ڈرتے ہیں۔‘ اس سے پہلے اجودھیا اور بنارس میں بھی دھرم سبھائیں ہوئی ہیں اور حکومت کو الٹی میٹم دیا گیا ہے۔ اب باری کمبھ کی ہے جہاں حکومت سے ناراض سادھو سنتوں کا بڑا اجتماع ہونے والا ہے اور مودی سرکار کے خلاف بگل بج سکتا ہے۔ اس سے حکومت کے آگے بڑی مشکلیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔
زبان خلق، نقارۂ خدا
2019ملک کے لئے جنرل الیکشن کا سال ہے۔اس لئے نریندر مودی کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اپنے اقتدار کو بچانے کا ہے۔ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے، جس کی بدولت وہ ووٹ مانگ سکیں۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن نے ثابت کردیا ہے کہ اب بھاجپا کا بوریہ بستر بندھنا شروع ہوچکا ہے۔ حالانکہ ملک کے عام لوگوں میں مودی کو لے کراب بھی تذبذب کی کیفیت ہے۔ایک فیس بک یوزرانیس الرحمٰن چشتی کا کہنا ہے کہ مودی جی کی بدعہدی ، زبان درازی اور لچھے دار کذب بیانی نے تو انہیں اپنے آپ کے لیے ہی بوجھ بنادیا ہے، لیکن جہاں تک پارٹی پر بوجھ بننے کی بات ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہے کہ وہ اپنی پارٹی پر بوجھ بن رہے ہیں۔اپنی پارٹی میں تمام لیڈران پر مودی بھاری ہیں۔انھیں الگ کرکے بی جے پی میں کچھ بچتا ہی کہاں ہے۔جب کہ نورعالم ابراہیم کا کہنا ہے کہ ابھی تو بوجھ بنے ہیں مگر آگے ابھی بہت کچھ کا سامنا کرنا ہے۔منظور احمدایک فیس بک تبصرہ میں کہتے ہیں کہ سنگھ پریوار کو کسی صاف ستھری شخصیت کی تلاش تھی جو فی الحال میسر نہیں ، اب اسے فکر ہے کہ کیسے اگلا چناؤ جیتے ؟ عارف شہزاد کو لگتا ہے کہ ابھی مودی میں دم ہے جب کہ اظہرالقادری کو لگتا ہے کہ اب مودی میں بی جے پی کو جتانے والی بات نہیں رہی ۔
مودی سرکار سے نجات چاہتے ہیں عوام
2014میں نریندر مودی کو جو بڑی جیت ملی تھی اور جسے میڈیا نے ’مودی لہر‘ کہا تھا وہ در اصل تب کی منموہن سنگھ سرکار کے خلاف عوامی غصہ تھا۔ اس غصے کو بڑھانے کا کام اناہزارے کے آندولن نے بھی کیا تھا۔ ایسے حالات میں مودی عوام کے ایک طبقے کی امید بن گئے تھے اور بی جے پی کو اکثریت مل گئی تھی مگر عوام کی امیدوں پر وہ کھرے نہیں اترے اور آج ان کے ووٹروں میں پچھتاوا نظر آرہا ہے۔ اس کی ایک مثال ان ریاستوں میں دیکھی گئی جہاں گزشتہ دنوں اسمبلی الیکشن ہوئے۔ مودی حکومت کی بے حسی کو ملک نے ساڑھے چار سال تک دیکھا ہے۔ اس کی ایک مثال تب دیکھی گئی جب چند مہینہ قبل ریاست کیرل میں زبردست سیلاب آیا، جس میں اربوں روپئے کی املاک کا نقصان ہوا، کروڑوں افراد متاثر ہوئے اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر آگئے۔ اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے مرکزی حکومت نے صرف پانچ سو کروڑروپئے کا پیکیج دیا۔ جب کہ وزیراعظم نریند مودی کے غیرملکی سیرسپاٹے پر گزشتہ ساڑھے چار سال میں دوہزار کروڑ سے زیادہ خرچ ہوئے اور تقریبا اتنی ہی رقم ان ہوائی جہازوں کے رکھ رکھائو پر خرچ ہوئی، جن کے ذریعے وزیراعظم نے دنیا کی سیرکی۔یہی نہیں اس ’سابق چائے والے‘ نے اپنے سوٹ بوٹ پر بھی کروڑوں روپئے خرچ کئے ہیں، جن کے اعداد وشمار ابھی سامنے نہیں آئے ہیں۔ یہ شاہ خرچی اس ملک کے ’پردھان سیوک‘ کی ہے جہاں کے کسانوں کو دوہزار کیلو آلو بیچنے پر صرف پانچ سوروپئے کی کمائی ہوتی ہے۔ نوٹ بندی سے لے کر جی ایس ٹی کے نفاذ تک مودی سرکارکے احمقانہ فیصلوں نے محمدشاہ تغلق کی روح کو بھی شرمندہ کیا ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ آج ملک کے عوام اس حکومت سے نجات چاہتے ہیں جسے انھوں نے بہت آرزووں ، تمنائوں کے ساتھ اقتدار بخشا تھا۔ عوام کے موڈ کو آج خود بی جے پی اور سنگھ پریوارکے لوگ بھی محسوس کرنے لگے ہیں اور انھیں یقین ہوچلا ہے کہ نریندر مودی بھگوا سلطنت کے’ محمد شاہ رنگیلا‘ ثابت ہونے والے ہیں۔ کلکتہ کے آزاد صحافی عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ مودی کے بعد یوگی ہندتو کا بھیا نک چہرہ ہیں مگر یوگی اب تو یوپی کے لئے ہی بوجھ ہوگئے ہیں، اس لئے مودی فر قہ پر ستوں کا اس وقت وا حد سہارا اور امید ہیں۔ یہ بات ضرور ہے کہ امت شاہ کو راندۂ درگاہ کیا جا سکتا ہے اسکے بعد ممکن ہے مو دی خلاف پارٹی کے اندر سے آواز بلند ہو مگر یہ مشکل امرہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close