شعر وشاعری

2019 کے نئے سال کی پہلی صبح کے ضمن میںایک خصوصی التماس


پہلی صبح بنام آخری شام۔۔!

محمد عباّس دھالیوال۔
گزرتے سال کی آخری شام
تجھے میرا سلام..!
سال نو کی دہلیز پہ پہنچانے کا ،تیرابڑا احسان ۔۔!
آخری شام…تمجھ سے مجھے کوئی شکوہ نہیں ۔۔
ہاں ۔۔مگر !
گزرے سال سے ضرور ہے اتنا کہنا…
کہ ملک میں ،جوگزرشتہ برسوں کے درمیاں
گنگا جمنی تہذیب کی قدیم روایات کچلنے والے ،
اور دیش کی پر امن فضا میں
فرقہ پرستی کا زہر گھولنے والے
وہ ا بھی تک تھمے نہیں ہیں۔!
جوسلسلے۔۔چلے تھے۔۔!
اورہاں۔۔ دادری کے سلسلے اب،
بلندشہر تک پہنچ چکے ہیں۔!
آخری شام مجھے یہ بھی ہے کہنا۔!
کہ دیش کے مجبور وبے بس کسان
اپنی مانگوں کو لیکر،اس سال بھی
دھرنا پردرشن کرتے رہے
اور ملک کامستقبل سمجھے جانے والے یووا(نوجواں)۔۔!
روزگار کی خاطردر بدر کی ٹھوکریں کھا
سال بھرروزگار ملنے کی آس میں
لمبی قطارمیں لگے کھڑے ہیں،
لیکن روزگار نہیں ملے ہیں۔
آخری شام ۔۔!مجھے یہ بھی ہے کہنا۔!
کہ غریبی ،بے روزگاری ،کرپشن ،
اورچھوٹے بیوپاریوں کے مسائل ۔۔!
اب بھی جوں کہ توں بِنا سلجھے کھڑے ہیں۔
جبکہ ڈالر کے مقابل روپے کے نرخ
اس سال حد سے زیادہ گِرے ہیں
اور دادری سے جو سلسلے شروع ہوئے تھے
وہ اب بلند شہر تک پہنچ چکے ہیں۔!
کٹھوا،انائو جیسی عصمت دری کے سلسلے بھی
ابھی تک تھمے نہیں ہیں۔!
افسوس اب تو یہ شیلٹر گھروں تک پہنچ چکے ہیں۔
لیکن افسوس ۔!سبھی مذکورہ مسائل ۔۔۔۔
ملک کے مین سٹریم میڈیا کینوس سے
اس سال بھی اکثرغائب رہے ہیں۔!
جبکہ اس کے بر عکس
میڈیا چینلز سال بھی خبروں کے نام پر
لوگوں کی آنکھوں میں
مذہبی نفرتوں کے فرضی مباحثوں کی
دھول جھونکتے رہے ہیں۔!
گزرتے سال کی آخری شام ۔!
پانچ ریاستوں کے آئے نتائج
نفرتوں بھری ہوا کا رخ ،
کچھ تو اب کمزور کرنے لگے ہیں۔!
آخر ی شام۔۔!مجھے یہ بھی ہے کہنا۔!
کہ نئے سال کی نئی صبح سے میرا سلام کہنا۔
اور ساتھ ہی یہ پیغام کہنا۔
کہ میرے وطن میں،
گنگا جمنی تہذیب کے وہی دن ۔!
پھر سے لوٹادے،
یہاں پھر سے امن و یکجہتی کی ہوا چلا دے
موسم وہی پہلے ساخوشنما بنادے
ملک کے ساتھ پوری دنیا میں
پیارو محبت کی شمع جلادے۔
اوران دکھیا کالی راتوں کی۔۔
خوشیوں والی صحر کرادے…!
خوشیوں والی صحر کرادے…!

ا

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close