ہندوستان

سپریم کورٹ نے مقدمہ کی جلد از جلد سماعت مکمل کیئے جانے کے احکامات جاری کیا

ممبئی۰۱ جولائی(پریس ریلیز)ممنو ع تنظیم داعش کے رکن ہونے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزا مات کے تحت کلیان کے ساکن اریب مجید کی ضمانت عرضداشت پر آج سپریم کور ٹ آ ف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے د وران ایک جانب جہاں عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کردیا و ہیںنچلی عدالت کو حکم دیا کہ وہ مقدمہ کی جلد از جلد سماعت مکمل کرے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانو نی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ ممبئی ہائی کورٹ کی جا نب سے ملزم اریب مجید کی ضمانت عرضدا شت مسترد کیئے جانے کے بعد ایڈو کیٹ آن ریکارڈ فروخ رشید کے ذریعہ ضمانت عرضداشت سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیة علماءکی جانب سے سینئر ایڈو کیٹ حذیفہ احمد ی نے عدالت میں اپنے دلائل پیش کیئے لیکن عدالت نے بجائے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کے نچلی عدالت کو حکم دیا کہ معاملے کی سماعت جلد از جلد مکمل کرے۔ ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے جسٹس ارون مشراءاور جسٹس عبدالنظیر کو بتایا ملزم کو داعش تنظیم کا رکن بتایا گیا ہے جبکہ ملزم کی گرفتاری کے وقت داعش تنظیم پر ہندوستان میںپابندی عائد نہیں کی گئی تھی بلکہ ملزم کی گرفتاری کے تین ماہ بعد مرکزی حکومت نے۷۱ فروری ۵۱۰۲ءکو نوٹفیکشن جاری کرکے داعش تنظیم کو ہندوستان میں ممنوع قراردیا تھا جبکہ ملزم کی گرفتاری ۸۲ نومبر ۴۱۰۲ءکو عمل میں آئی تھی لہذا ملزم کی گرفتاری ہی غیر قانونی ہے جس کاسپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہئے۔ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے عدالت کو مزید بتایا کہ استغاثہ نے ممبئی ہائی کورٹ میں اس بات کا دعوی کیا تھا کہ مقدمہ کی سماعت شروع ہوچکی ہے لہذا ملزم کو ضمانت پررہا نہیں کیا جانا چاہئے جبکہ حقیقت میں ایک سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باجود ابھی تک صرف ۳ سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات کا اندراج خصوصی عدالت میں کرایا ہے جبکہ قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے اس معاملے میں ملزم اریب مجید کے خلاف گواہی دینے کے لیئے ۷۴۱ سرکاری گواہوں کو نامزد کیا ہے ۔سپریم کورٹ نے دفاعی وکیل کے دلائل کی سما عت کے بعد کہا کہ اس معاملے میں بیرونی ممالک کے معاملات بھی جڑے ہوئے ہیں لہذا بجائے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کو وہ نچلی عدالت کو حکم دیتے ہیں کہ وہ مقدمہ کی جلد از جلد سماعت کرے نیز اگر مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے میں تاخیر ہوتی ہے تو ملزم دوبارہ عدالت عظمی سے رجوع ہوسکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close