اتر پردیش

زیر تعمیر رہائش گاہوں کاضلع مجسٹریٹ نے موقعہ پر جا کر جائزہ لیا

مین پوری 10 جولائی(حافظ محمدذاکر)ضلع مجسٹریٹ پردیپ کمار نے نگر پنچایت گھرورمیں ضم رہائش گاہوں اور ترقیاتی پروگرام کے تحت تیار 208 رہائش گاہوں میں سے بہت سے رہائش گاہوں کا موقع پر جاکر جائزہ لیا ،اور فائدہ اٹھانے والوں سے براہ راست گفتگوکر معلومات حاصل کی ، زیادہ تر فائدہ اٹھانے والوں کی طرف سے بتایا گیا کہ روپیہ مکمل جمع نہ کرنے کی وجہ سے کام والے ادارے ،ونوڈل محکمہ کی طرف سے رہائش گاہوں میں دروازے، جنگلوں پر پلّے(کھڑکیا )، فرش، اور بجلی کا کام نہیں کیا گیا ہے، کام والے ادار ے کی طرف سے کمرہ تیار کرکے پلاسٹر، وائرنگ، مرکزی دروازے ،و پتائی کا کام کرایا گیا ہے، کچھ فائدہ اٹھانے والوں نے بتایا کہ ان کی طرف سے 35162 میں سے 10 ہزار روپئے جمع کیا گیا ہے، جن کی رسید موجود ہے ۔ مسٹر کمار نے نگر پنچایت گھرور کے وارڈ نمبر 01 میں آئی ،ایچ،ایس،ڈی،پی، منصوبہ بندی کے مستفید سنیل، کاشیرام، سمیری چند، چرن سنگھ، شیام بابو سے معلومات حاصل ہوئی ،فائدہ اٹھانے والوں نے بتایا کہ ان کی اقتصادی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے وقت سے روپیہ جمع نہیں کیا جا سکا ، نگر پنچایت، شہری ترقی ایجنسی ڈوڈا کی طرف سے مسلسل فائدہ اٹھانے والوں سے روپیہ جمع کرائے جانے کیلئے دبا¶ بنایا جا رہا ہے، اس پر انہوں نے فائدہ اٹھانے والوں سے کہا کہ وہ اب کسی بھی شخص، یا محکمہ، کوپیسہ نہ دےں، خود اسی فنڈز سے باقیات کام کرائیں۔انہوں نے سی،این، ڈی، ایس کے ایگزیکٹو انجینئر کو ہدایت کی کہ تمام کمروں کے جنگلوں میں کھڑکیا لگوائیں ،اور مزید غسل خانہ ،بیت الخلاءمیں بھی دروازے لگا نا یقینی بنائیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے کام والے ادارے کے انجینئر سے معلومات کرنے پر پتہ چلا ہے کہ نگر پنچایت گھرور میں ا سی منصو بہ بندی کے تحت 450 رہائش گاہوں کی تعمیر ہونی تھی ، مگراہلِ مستحقین کے پاس زمین دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے صرف 208 رہائش گاہیں ہی تعمیر ہوپایہ ہیں، زیادہ تر مکانات 2.25 لاکھ روپئے کی لاگت سے تعمیر ہوئے ہیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close