اتر پردیش

یہ ملک تمام مذاہب کے ماننے والوںکاہے کسی ایک مذہب کی بالادستی اس ملک کے آئین کے بھی خلاف

سہارنپور10جولائی(احمد رضا)آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور کے زیراہتمام ہوٹل رائل یزیڈنسی میں عید ملن استقبالیہ کی تقرےب کا انعقاد کیاگیا جس میںشہر کے ذمہ داران اور تمام طبقات کی مذہبی شخصیات کے علاوہ سیاسی وسماجی شخصیات نے شرکت کی۔ آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور کے زیر اہتمام منعقد اس خوبصورت تقرےب میں اترپردیش کے علاوہ ،دہلی، ہریانہ و اتراکھنڈ کی اہم شخصیات بھی شامل ہوئیں ۔ تقرےب کے مہمان خصوصی آل انڈیا ملی کونسل کے قومی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر منظور عالم رہے۔ صدارت مولانا مصطفی رفاعی جیلانی ندوی معاون جنرل سیکریٹری آل انڈیا کونسل نے کی جبکہ نظامت کے فرائض بہت ہی خوبصورت اندازمیں سہارنپور ضلع صدر و عید ملن تقرےب کے کنوینر مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے انجام دئے۔ آل انڈیا ملی کونسل کے قومی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر منظور عالم نے آل انڈیا ملی کونسل کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات پر فکرمندی کا اظہار کیا ۔انھوں نے کہا کہ ہمیںمایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کچھ شیروں کے منھ خون لگ چکا ہے اور ہمیں ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ معصوم عوام کو نفرت کے جال میںپھنسانے کی سازش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ملک تمام مذاہب کے ماننے والوںکاہے کسی ایک مذہب کی بالادستی اس ملک کے آئین کے بھی خلاف ہے ہم سب کو یہاں مل جلکر رہنا ہے اورانسانیت،محبت و بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنا ہے۔عیسائی سماج کے رہنماءفادر ڈینیل ، سوامی سنجے پرپننا چاریہ،سابق ممبر اسمبلی سریندر کپل نے اپنے خطاب میں تمام قوموں کے آپسی اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ نفرت کا ایجنڈہ اس ملک میں نہیں چلیگا یہ ملک پیار اور امن کو ماننے والوںکاملک ہے اسلئے ہم سب کو ملک کی ترقی اور امن کے ساتھ ہی بھائی چارے کے فروغ کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔ نائب شہر قاضی ندیم اختر اور جامعہ مظاہرعلوم کے استاد مولانا مفتی سید صالح الحسنی نے اپنے خطاب میںکہا کہ اتحاد و اتفاق سے رہکر ہی ہم اپنے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ انھوں نے عید ملن تقرےب کے انعقاد کیلئے آل انڈیا ملی کونسل کو مبارکباد پیش کی اور اس طرح کے پروگرام کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ میئر سنجیو والیا اور سٹی کمشنر گیانیندر سنگھ وائس یئرمین ایس ڈی اے نے عید ملن تقرےب پر کنوینر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طر ح کے پروگرام سے آپسی بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے اور ایک دوسرے کے خیالات سے نئی نئی جانکاریاں ملتی ہےں۔ انھوں نے کہا کہ انسان کو اپنی سوچ بڑی کرنے کی ضرورت ہے اور دلوں کو بڑاکرنے سے ہی ہم بہتر سماج کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ کیرانہ ممبر پارلیمنٹ تبسم حسن چودھری نے فر قہ پرست طاقتوںپر زوردار حملہ کرتے ہوئے کہا کہ آج حالات یہ ہو گئے ہیں کہ یہ طاقتےں ایک دوسرے کے یہا ںتقرےب میں جانے کیلئے بھی اپنے لوگوں کو روکتی ہیں اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جلکر بیٹھنے سے محبت بڑھتی ہے مگر فرقہ پرست طاقتےںسماج میںمحبت کے برعکس نفرت کا زہر گھولنے کی سازش کرتی ہیںہمیں ان طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ممبر اسمبلی سنجے گرگ اور سینئر سماجی رہنماءحاجی فضل الرحمن علیگ نے اپنے کہاکہ جو طاقتےں سماج میںدیوار کھڑی کرنے کاکام کر رہی ہیں ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ طاقتیں ایک خاص ایجنڈہ تھوپنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ملک کے آئین کو ور دروازے سے تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہے ملک کے سیکولر لوگوں کو ان طاقتوں کے خلاف تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ عید ملن تقرےب سے یوپی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین لیاقت علی ایڈو کیٹ،مظاہرحسن رانا، ڈاکٹر قدسیہ انجم پرنسپل ہندو کنیاانٹر کالج، ڈاکٹر راجیو تےواری، ماہر قانون داں چودھری جاںنثار ایڈوکیٹ، انوار صدیقی ایڈوکیٹ، چودھری مظفر علی، ملی کونسل کے شہر صدر صابر علی خان، مظفر سی اے، مولانا تو قیر قاسمی استاد دارالعلوم دیوبند، راو¿ عبدالستار ،مظہر عمر ، طاہر علی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ تقرےب میں شرکت کرنے والوں میں مدرسہ مظاہر علوم وقف کے ترجمان مولانا ریاض الحسن ندوی، انوار احمد، شاہ زماں، مولانااحمد سعیدی، مفتی راشد مظاہری، مفتی ناصر الدین مظاہری، قاری زبیر کریمی، مولانا رسال الدین حقانی، چودھری سلیم صدر بنجارہ سماج، حیدر رو¿ ف صدیقی جنرل سیکریٹری ملی کونسل شہر سہارنپور، سید حسان، کامران، قاری جنید ، محمد اعظم شاہ، محمد عالم، خالد ندوی، شمس تبریز قاسمی، بسمل عارفی، راشد صدیقی، مولانا عثمان، قاری سعید، مولانااطہر حقانی ، مولانا محفوظ،مولانا واصل، مولانا بدر عالم ندوی،مولانا نواب، مولانا عارف،مفتی دلشاد، قار ی ذیشان پانی پت، مولانا واصف، حاجی توصیف صدیقی، مولانا عزیزاللہ ندوی ،مولانا عبدالماجدوغیرہ موجود رہے۔ آخیر میں آل انڈیا ملی کونسل کے ضلع جنرل سیکریٹری حاجی اوصاف گڈو نے تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close