بہار

اردو کی بہتری کےلئے زمینی سطح پر کام کرنے کا حوصلہ دکھائےںاساتذہ اور دانشور : عالمگےرشبنم حےدر وارثی

دربھنگہ :۰۱ جولائی (تاثےر بےورو )ہوپ فار ہےومن فاو¿نڈےشن اور بہار اردو اکےڈمی کے اشتراک سے مقامی اقراءاکےڈمی بی بی پاکر دربھنگہ مےں قومی سمےنار کا اہتمام کےا گےا ۔ سمےنار کا افتتاح حافظ ثاقب ضےاءکی تلاوت اور شاعر ندا عارفی کے نعتےہ کلام سے ہوا ۔اس کے بعد صدر ڈاکٹر عالمگےر شبنم ( نائب صدر انجمن ترقی اردو بہار) ، مہمان خصوصی انجےنئر خورشےد عالم (سکرےٹری انجمن ترقی اردو دربھنگہ )،مہمان اعزازی ڈاکٹر علاءالدےن حےدر وارثی ، نظر عالم ( صدر آل انڈےا مسلم بےداری کارواں )، صحافی سےماب اختر ، ڈاکٹر عبد المتےن قاسمی ، کنوےنر ڈاکٹر عقےل صدےقی اور سماجی کارکن نثار احمد نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے باضابطہ طور پر افتتاح کےا ۔ اس سے قبل ڈاکٹر صدےقی اور نثار احمد نے مہمانوں کا استقبال چادر ، ٹوپی سے کےا ۔ کلےدی خطبہ کے دوران نظر عالم نے دربھنگہ مےں اردو زبان و ادب کی تارےخ اور ارتقاءکا ناقدانہ جائز پےش کےا ۔ انہوں نے بےباکی سے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ باصلاحےت اساتذہ سامنے آئےں اور نئی نسل کی صحےح رہنمائی کرےں ۔ اس فکر سے آزاد ہو کر زمانہ ہمےں کےا کہے گا ؟ اگر اےسا نہےں ہوگا تو اردو زبان وادب مےں ہمےشہ کےلئے تحقےق و تنقےد کا دروازہ بند ہوجائے گا ، جس کی شروعات اکےسوی صدی کے ابتداءسے ہوچکی ہے ۔ انہوں نے اپنی بات عامر عثمانی کے اس شعر( قدم قدم پر کھلے ہوئے ہےں مکر وفن کے مدرسے ) پر کےا ۔ مقالہ پےش کرتے ہوئے ڈاکٹر منور راہی نے کہا کہ اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے تقاریب منعقد کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اس قیمتی ورثہ کی اہمیت وافادیت سمجھتے ہوئے اسے اپنے اپنے گھروں میں لازمی طور پر جگہ دینا ہوگا۔ دوسروں کو عمل کرنے کا مشورہ دینے کے بجا ئے خود اپنے بچوں کو اس زبان سے رغبت دلانا ضرور ی ہے۔ ڈاکٹر عبد الودود قاسمی نے دربھنگہ سے تعلق رکھنے والے قدیم وجدید نثر نگاروں کا مختصر تعارف کراےااور دربھنگہ کی روشن تارےخ کو اجاگر کےا ۔ صحافی ڈاکٹر منصور خوشتر نے کہاکہ آج اردو گجراتی سے نیچے جاچکی ہے۔ اردو کی موجودہ حالت کے بڑ ے ذمہ داری خود اردو کے اساتذہ ہیں۔ انہوں نے نہاےت جذباتی انداز مےں اردو کے کئی مسائل کا ذکر کےا۔ اس موقع پر صحافی احتشام الحق نے کہاکہ اردو میں ایک طبقہ خوش فہمی کا شکار ہے اور دوسرا حالات کا تجزیہ کرنے کی بجائے اساتذہ کو مورد الزام ٹھہرا کر راہ فرار اختیار کرنا چاہتا ہے۔ عام طور پر ہم جب کسی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ماحول جذباتی ہوجاتا ہے اور سامعین کی تالیاں ملتی ہیں۔ ہمیں حالات کا تجزیہ کرنا ہوگا اور صحیح علاج تلاش کر کے اےمانداری سے عمل میں لانا ہوگا۔ڈاکٹر احسان عالم نے کہا کہ دربھنگہ مدبروں، مفکروں، ادیبوں، شعرا، صوفیوں اور سنتوں کی زمین رہی ہے اور ہر دور میں یہاں ادبا اور شعرا پیدا ہوتے رہے ہیں جن کی خدمات لائق ستائش ہے۔ اس موقع پر اپنی تمہےدی گفتگو مےں ناظم ڈاکٹر عبد المتین قاسمی نے کہا کہ دربھنگہ کو ہمیشہ امتیازی حیثیت حاصل رہی ہے ۔ آج بھی ملک بھر میں پھیلے اردو اساتذہ میں دربھنگہ کے اساتذہ بڑا مقام رکھتے ہیں اور ان کی بڑی تعداد ہے جو ملک بھر کے طلبہ کو سیراب کر رہے ہیں ۔صدر ڈاکٹر عالمگیر شبنم اور ان سے قبل ڈاکٹر علاءالدےن حےدر وارثی نے اپنی اپنی تقرےر وںمےں کہا کہ فروغ اردو کے لیے ہم زمینی سطح پر کام کریں۔ بالخصوص اردو تدریس کو دلچسپ اور موثر بنانے کے لیے لائحہ عمل تیار کریں۔ نئی نسل کو اردو کی طرف راغب ریں۔ نئی نسل کی اردو سے بیزاری بہت ہی افسوسناک ہے بات ہے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے احتساب کی ضرور ت ہے۔انہوں نے کہا کہ خود اردو پڑھئے اور اپنے بچو ں کو اردو پڑھا ئیںاورمدراس سے اپنا رشتہ مضبوط کر یں ۔سمےنار کے دوران عرفان احمد پےدل ( بےورو چےف روزنامہ پندار )، فردوس علی ( بےورو چےف روزنامہ راشٹرےہ سہارا )، منصور خوشتر ( بےورو چےف قومی تنظےم دربھنگہ )، احتشام الحق (نمائندہ انقلاب )، ڈاکٹر عبد المتےن قاسمی ( بےورو چےف روز نامہ ثاتےر ) کو صحافی خدمات کےلئے توصےفی سند اور شال دے کر اعزاز سے نوازا گےا ۔ انجےنئر خورشےد عالم کے کلمات تشکر پر سمےنار اختتام پذےر ہوا ۔ اس موقع پر شاعر انور آفاقی ، نےاز احمد (رےاستی نائب صدر انصاف منچ )، ڈاکٹر اظہر سلےمان ، محمد اشرف (آر جے ڈی لےڈر ) ، منظر صدےقی ، علی حسن انصاری ، مہدی رضا روشن القادری ، خلےل صدےقی سمےت درجنوں اہل علم اور دانشوران موجود تھے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close