بہار

ادھوارہ ندی مےں 3 بچے غرقاب ، سےسو مغربی پنچاےت کا سانحہ

دربھنگہ :۰۱ جولائی (عبد المتےن قاسمی )صدر بلاک کے سےسو مغربی پنچاےت سے گذرنے ادھوارہ( باگمتی )ندی مےںتیر نے کے دورانِ منگل کودن کے 11بجے تےن بچے غرقاب ہوگئے ۔ ندی میں ڈوب کر تین بچوں کی درد ناک موت سے پورا گاو¿ں ماتم مےں ڈوبا ہواہے ۔اس حادثہ مےں گاو¿ں کے ہی توصےف رضا خان عرف محمد آزاد ولد سہراب خان 10 سال، محمد عادل انصاری ولد عالمگےر انصاری 15سال، اور پھولو انصاری کا نواسہ اوراحمد انصاری کا بےٹا سہےل انصاری عرف چھوٹو انصاری 12سال کی موت ہوگئی ہے۔ اطلاع کے مطابق تینوں لڑکے آم کے باغ میں کھیل رہے تھے ۔ باغ کے کنارے سے ادھوارہ ندی گزرتی ہے جس مےں اس وقت زبردست طغےانی ہے ۔ غسل اور تےرنے کی نسےت سے جےسے ہی ےہ بچے ندی میں داخل ہوئے گہرائی مےں ڈوب گئے اور پھر ےکے بعد دےگرے تینوں ڈوب گئے ۔حالانکہ وہاں موجود دیگر بچوں نے فورا شور مچایا،جس پر مقامی لڑکوں کی مدد سے دوبچوں کو نکالاگیا لیکن بچایا نہیں جاسکا ۔اور اےک کی لاش کو این ڈی آر ایف کی ٹیم کی مدد سے تقریباً 4گھنٹے کی مشقت کے بعدباہر نکالا جاسکا ۔ اس حادثہ کی اطلاع جیسے ہی لوگوں کو ملی بڑی تعداد میں دور دراز سے لوگ تعزیت کےلئے پہنچے لگے ۔مقامی طور پر مکھیا شمس عالم خان کی ذاتی دلچسپی سے مقامی تھانہ اور غوطہ خور ٹیم کو جائے حادثہ پر بلایا گےا ۔جنہوں نے پوری مستعدی سے اس آپر یشن کی نگرانی کی ۔اس موقع پر سرپنچ ارمان خان نے لاش نکالنے میں مصروف غوطہ خور ٹیم کی بھر پور مدد کی ۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی بھیڑ اکٹھی ہوگئی تھی اس حادثہ سے سارا علاقہ سوگوار ہے گا¶ں میں ماتمی سناٹا پسرا ہوا ہے ان تینوں بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ بعد نماز عشاءجامع مسجد سیسو کے صحن میں ادا کی گئی اور اشکبار آنکھوں کے درمےان سپرد خاک کردےا گےا ۔ اس موقع پر صدر بلاک سی او راکےش کمار اور ممبی اوپی انچارج گوتم کمار سنگھ ، مکھےا شمس عالم خان کے ہاتھوںمہلوکےن کے اہل خانہ کو چار لاکھ روپئے بطور معاوضہ دےا اور مکھےا کی جانب سے آخری رسومات کےلئے تےن تےن ہزار روپئے دئےے ۔ سانحہ کی اطلاع ملتے ہی رکن اسمبلی سنجے سر او¿گی ، سابق مےئر اوم پرکاش کھےرےا نے پہنچ کر اظہار تعزےت کےا ۔ اس کے علاوہ سابق وزےر محمد علی اشرف فاطمی اور آر جے ڈی ترجما ن محمد راشد جمال نے بھی گہرے صدمے کا اظہار کےاہے ۔ مدرسہ نورالعلوم سےسو کے اساتذہ و اراکین نے بھی اظہار تعزےت کےا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close