کھیل

ضرورت سے زیادہ پلیئنگ الیون سے چھیڑ چھاڑ کا سائیڈ افیکٹ انگلینڈ سیریز کے دوران دیکھا جارہا ہے

نئی دہلی:کپتان وراٹ کوہلی کی قیادت میں ٹیم انڈیا نے اب تک کامیابی کا پرچم بلند ضرور کیا ہے ، لیکن انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں ملی شکست نے ان کی کپتانی اور حکمت عملی پر سوالات ضرورت کھڑے کردئے ہیں ۔ وراٹ کوہلی نے گزشتہ 36 ٹیسٹ میچوں میں الگ الگ پلیئنگ الیون کو میدان پر اتارا ہے ۔ وہ جب سے کپتان بنے ہیں ، انہوں نے کچھ ایسے فیصلے کئے ہیں ، جس کی وجہ سے ٹیم انڈیا کے کچھ باصلاحیت بلے بازوں کا خود پر بھی بھروسہ ڈگمگا گیا ہے۔
یوں کہنے کو تو اجنکیا رہانے ٹیم انڈیا کے ٹیسٹ میں نائب کپتان ہیں ،لیکن صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو پلیئنگ الیون میں ان کی بھی جگہ یقینی نہیں رہتی ہے اور وہ تذبذب کا شکار رہتے ہیں ۔ وراٹ کوہلی اور ہیڈ کوچ روی شاستری نے مل کر ایک ساتھ جنوبی افریقہ کے دورہ پر رہانے کو ٹیسٹ سیریز میں پلیئنگ الیون سے ڈراپ کردیا تھا ۔ اس فیصلہ سے رہانے کے اعتماد میں کمی آگئی اور جو رہانے کبھی بیرون ممالک ٹیم انڈیا کیلئے سب سے زیادہ رن بناتے تھے ، اب وہ ہر جگہ ناکام ثابت ہورہے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ رہانے کا بلے ان سے روٹھ گیا ہے ۔ گزشتہ سات ٹیسٹ میچ میں رہانے صرف 10.27 کے اوسط سے 118 رن بنائے ہیں ، جس میں ایک بھی نصف سنچری شامل نہیں ہے۔ رہانے اب ٹی 20 اور یک روزہ فارمیٹ میں بھی نہیں کھیلتے ہیں اور پلیئنگ الیون میں ان کا اندر و باہر رہنا کہیں نہ کہیں رہانے کو عدم تحفظ کا احساس دلا رہا ہے ۔ شاید اسی وجہ سے رہانے کھل کر نہیں کھیل پارہے ہیں۔
اجنکیا رہانے کی طرح ہی چتیشور پجارا کا بھی حال ہے ۔ پجارا کو انگلینڈ کے خلاف پلیئنگ الیون میں جگہ نہیں دی گئی جبکہ وہ دنیا کے نمبر 6 ٹیسٹ بلے باز ہیں۔ سری لنکا سیریز کے دوران ان کے بلے بازی کے آرڈر میں بھی تبدیلی کی گئی۔ پجارا سے اوپننگ بھی کرائی گئی ۔ روہت شرما کو ٹیسٹ کرکٹ کھلانے کی کوشش میں پجارا اور ہانے کے بلے بازی کے آرڈر میں تبدیلیاں کی گئیں ۔ وراٹ کوہلی نے بطور ٹیسٹ کپتان ٹیم انڈیا کو نمبر ایک ضرور بنایا ہے ، لیکن ضرورت سے زیادہ پلیئنگ الیون سے چھیڑ چھاڑ کا سائیڈ افیکٹ اب انگلینڈ سیریز کے دوران دیکھا جا سکتا ہے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close